0

Asman Aysa Bhi Kiya Khatra Tha

میری اک چھوٹی سی کوشش تجھ کو پانے کے لیے
بن گئی ہے مسئلہ سارے زمانے کے لیے

ریت میری عمر میں بچہ نرالے میرے کھیل
میں نے دیواریں اٹھائی ہیں گرانے کے لیے

وقت ہونٹوں سے مرے وہ بھی کھرچ کر لے گیا
اک تبسم جو تھا دنیا کو دکھانے کے لیے

آسماں ایسا بھی کیا خطرہ تھا دل کی آگ سے
اتنی بارش ایک شعلے کو بجھانے کے لیے

چھت ٹپکتی تھی اگرچہ پھر بھی آ جاتی تھی نیند
میں نئے گھر میں بہت رویا پرانے کے لیے

دیر تک ہنستا رہا ان پر ہمارا بچپنا
تجربے آئے تھے سنجیدہ بنانے کے لیے

میں ظفرؔ تا زندگی بکتا رہا پردیس میں
اپنی گھر والی کو اک کنگن دلانے کے لیے

✍🏻ظفر گورکھپوری

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *