
ہم نے کب چاہا کہ وہ شخص ہمارا ہو جائے
اتنا دِکھ جائے کہ آنکھوں کا گزارہ ہو جائے
ہم جسے پاس بٹھا لیں وہ بچھڑ جاتا ہے
تُم جسے ہاتھ لگا دو وہ تمہارا ہو جائے
تُم کو لگتا ہے کہ تُم جیت گئے ہو مُجھ سے
ہے یہی بات تو پھر کھیل دوبارہ ہو جائے
ہے محبت بھی عجب طرزِ تجارت کہ یہاں
ہر دکاں دار یہ چاہے کہ خسارہ ہو جائے
یاسرؔ خان انعام